پیر 28 ستمبر 2026 - 20:26
مغربی بنگال میں ’’امام مہدیؑ اور مرجعیت‘‘ کے عنوان سے علمی نشست

حوزہ/ مغربی بنگال کے علاقے گھوناربن میں ’’امام مہدی علیہ السلام اور مرجعیت‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و تبلیغی نشست منعقد ہوئی، جس میں 15 سے زائد علمائے کرام اور تقریباً 150 سے 200 مؤمنین نے شرکت کی، جبکہ نوجوانوں کی نمایاں تعداد بھی موجود تھی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گھوناربن، مغربی بنگال/ مغربی بنگال کے علاقے گھوناربن میں ’’امام مہدی علیہ السلام اور مرجعیت‘‘ کے عنوان سے ایک علمی و تبلیغی نشست منعقد ہوئی، جس میں 15 سے زائد علمائے کرام اور تقریباً 150 سے 200 مؤمنین نے شرکت کی، جبکہ نوجوانوں کی نمایاں تعداد بھی موجود تھی۔

پروگرام کا اہتمام ہندوستان میں آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کے دفتر کی جانب سے عالیہ اکیڈمی کے تعاون و نگرانی میں کیا گیا۔ پروگرام میں عصرِ غیبت میں مرجعیت کی ضرورت، دینی رہنمائی میں اس کے کردار اور مؤمنین و نوجوانوں کے مرجعیت سے مضبوط تعلق کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن کریم سے ہوا، جس کی سعادت شیخ ارشد علی قمی نے حاصل کی۔ اس کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ جمشید علی قمی نے عصرِ غیبتِ کبریٰ میں مرجعیت کی ضرورت اور اس کے ثمرات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے علمائے دین اور قابلِ اعتماد راویوں کی طرف رجوع کی اہمیت بیان کی۔

اس موقع پر اہل بیت علیہم السلام کے شاعر میزان غازی نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام اور امام مہدی علیہ السلام کی مدح میں اشعار پیش کیے، جبکہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید قائد عباس رضوی نے امام حسن عسکری علیہ السلام کی شان میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ مقبول حسین قمی، امینِ مجلس علمائے مغربی بنگال نے مرجعیت کی ضرورت اور اہمیت پر خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کی جانب سے مغربی بنگال کے مؤمنین اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ اور ان کی دینی و فکری رہنمائی کے لیے ایسے پروگراموں کے انعقاد کی کوششوں کا ذکر کیا۔

مولانا شیخ اصغر علی غائن نے مرجعیت سے وابستگی کے فوائد اور اس سے دوری کے نقصانات پر گفتگو کرتے ہوئے مؤمنین کو اپنے دینی امور میں معتبر مراجع کی طرف رجوع کرنے کی تاکید کی۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید فیروز حسین زیدی نے موجودہ دور میں علمی، دینی اور فکری پروگراموں کی ضرورت اور مؤمنین و مرجعیت کے درمیان مضبوط تعلق کی اہمیت پر روشنی ڈالی، جبکہ مرجعیت کے نمائندے شیخ معصوم علی نے ایسے پروگراموں کے انعقاد کے مقاصد اور بالخصوص نوجوانوں کی دینی و فکری تربیت میں ان کی اہمیت بیان کی۔

پروگرام کے اختتام پر دفترِ ہند کی جانب سے آیت اللہ شیخ محمد یعقوبی کی تصاویر پر مشتمل فریم پروگرام میں شریک چھ ہیئات کو بطور ہدیہ پیش کیے گئے۔ پروگرام دعا و تضرع کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جبکہ حاضرین میں امام حسین علیہ السلام کی یاد میں تبرک کے طور پر بریانی بھی تقسیم کی گئی۔

پروگرام میں شریک علمائے کرام اور نوجوانوں نے آئندہ بھی ایسے علمی، فکری اور دینی پروگراموں کے انعقاد کا مطالبہ کیا، تاکہ مؤمنین بالخصوص نوجوان نسل کو عصرِ غیبت میں مرجعیت کی اہمیت اور ضرورت سے مزید آگاہ کیا جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha